پاکستان میں ہزاروں مسافر آف لوڈ کیوں؟

پاکستانی حکام نے ایسے چالیس ہزار مسافروں کو آف لوڈ کیا جو بیرون ملک سفر کر رہے تھے، اور ان کے مستقبل کے ارادوں پر شبہ کی بنیاد پر انہیں روکا گیا۔ ماہرین شہریوں کے سفر کے حق کی واضح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

بیرون ملک سفر سے روکے جانے والوں میں مختلف قسم کے مسافر شامل ہیں۔ ان میں وزٹ ویزا ہولڈرز، طلبہ اور ورک ویزا کےحامل افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خلیجی ممالک جا رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مسافر اس بنیاد پر روکے گئے کہ ایف آئی اے کو خدشہ ہے کہ وہ اپنے منزل کے ملک سے غیر قانونی طریقے سے کسی اور ملک جانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے مسافروں کو بڑی تعداد میں روکنے کی وجہ کیا ہے؟

مسافروں کی سخت جانچ پڑتال میں اس وقت اضافہ ہوا جب پاکستانیوں سے متعلق تارکین وطن کی کشتیوں کے کئی المناک حادثات پیش آئے۔ خاص طور پر 2023 میں یونان کے قریب ہونے والا کشتی حادثہ جس میں غیر قانونی راستوں سے سفر کرنے کی کوشش میں متعدد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے بعد حکام نے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی تیز کی اور ان مسافروں کی نگرانی بھی بڑھا دی جو ہائی رسک سمجھے جانے والے ممالک کا سفر کر رہے تھے۔

تاہم یہ پالیسی اب ایک بڑے سوال کو جنم دے رہی ہے کہ اگرچہ غیر قانونی ہجرت کو روکنا حکومت کا کام ہے، لیکن کیا ہزاروں عام مسافر، طلبہ اور محنت کش، چند افراد کے غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے اجتماعی سزا کا سامنا کر رہے ہیں؟

حکومتی اقدامات عام شہریوں کو کیسے متاثر کر رہے ہیں؟

کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ ایف آئی اے کو مسافروں کو آف لوڈ کرنے یا سفر سے روکنے کے اختیارات دینا رشوت، عوام کے استحصال اور بڑے مالی، جذباتی اور ترقی میں رکاوٹ جیسے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔

شہباز احمد اس کی ایک مثال ہیں۔ وہ ترکی کے درست ویزے پر سفر کر رہے تھے تاکہ وہاں سے سلووینیا کے سفارت خانے میں اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے پیش ہو سکیں۔ انہوں نے سلووینیا کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ بھی حاصل کر لیا تھا اور اس لیے ترکی جا رہے تھے کیونکہ سلووینیا کا سفارت خانہ پاکستان میں موجود نہیں۔

شہباز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں ایف آئی اے حکام نے ایئرپورٹ پر غیر ضروری طور پر ہراساں کیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرے پاس ویزا تھا، 280,000 روپے کا واپسی ٹکٹ تھا اور سلووینیا یونیورسٹی کے داخلے کے کاغذات تھے اور حکام  نے کہا کہ میں نہیں جا سکتا۔ کیوں؟ وہ کیسے فیصلہ کرتے ہیں کہ میں جائز مسافر ہوں یا نہیں؟ اب وہ کہتے ہیں کہ میں جا سکتا ہوں، لیکن میں اب بھی خوفزدہ ہوں۔ میں نے اپنی جیب سے دوبارہ ٹکٹ خریدا ہے۔ انہیں میرے ٹکٹ کے پیسے دینے چاہئیں، لیکن وہ ہماری مشکلات سے بالکل لاتعلق ہیں۔‘‘

پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن اس صورتحال پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں اور اسے ایک خطرناک رجحان قرار دیتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق کہتے ہیں کہ کسی شخص کو صرف شک کی بنیاد پر بیرون ملک سفر سے روکنے کی کوئی قانونی اجازت موجود نہیں۔ حارث سوال اٹھاتے ہیں، ’’کوئی کیسے کسی کے دل کو پڑھ سکتا ہے کہ وہ واقعی غیر قانونی طور پر جانا چاہتا ہے یا ایک صحیح مسافر ہے؟ اصل چیز صرف درست سفری دستاویزات ہیں۔‘‘

امیگریشن اور قانونی حلقوں کی رائے کیا ہے؟

کچھ ایسے ماہرین جو پہلے مسافروں کو سفر سے روکنے کے فیصلوں کے عمل کا حصہ رہ چکے ہیں، حکومت کے حالیہ اقدامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں اور ایف آئی اے کی اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔

سابق ڈپٹی چیئرمین نیب اور سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے حسین اصغر کہتے ہیں کہ ایف آئی اے کسی شخص کو بیرون ملک سفر سے صرف اس وقت روک سکتی ہے جب اس کے پاس جعلی یا مشکوک دستاویزات ہوں۔

حسین کا کہنا ہے، ’’یہ ایف آئی اے کا کام نہیں کہ وہ لوگوں کے دلوں میں جھانکے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ وہ مستقبل میں کیا کرنے والے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے اختیارات بدعنوانی اور عام شہریوں کے استحصال کا دروازہ کھولتے ہیں، اور اس عمل کو روکا جانا چاہیے۔

حسین کہتے ہیں، ’’میں نے خود ایئرپورٹ آپریشنز سر انجام دیے ہیں اور کبھی بھی بغیر ٹھوس وجہ کے کسی مسافر کو آف لوڈ نہیں ہونے دیا۔ آف لوڈ کرنے وجہ صرف احساسات پر مبنی نہیں ہو سکتی۔‘‘

کیا ان اقدامات کا کوئی قانونی جواز ہے؟

سوال یہ ہے کہ اگر ایف آئی اے کے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کا عمل غیر قانونی ہے، تو کیا ہزاروں افراد کو روکنے کے ان اقدامات کا کوئی قانونی جواز موجود ہے؟

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کا کوئی قانونی جواز نہیں، جبکہ ایف آئی اے نے اس معاملے پر مؤقف دینے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

Hot this week

Israel deports French journalist accused of supporting Hamas

Isreal has suppressed coverage of its war on Gaza,...

نوجوانوں کے لیے ہنرمندی اور روزگار کے نئے مواقع

پشاور : نوجوانوں کے لیے ہنرمندی اور روزگار کے...

Now Is the Time to Think About Your Small-Business Success

Find people with high expectations and a low tolerance...

Program Will Lend $10M to Detroit Minority Businesses

Find people with high expectations and a low tolerance...

Kansas City Has a Massive Array of Big National Companies

Find people with high expectations and a low tolerance...

Topics

Israel deports French journalist accused of supporting Hamas

Isreal has suppressed coverage of its war on Gaza,...

نوجوانوں کے لیے ہنرمندی اور روزگار کے نئے مواقع

پشاور : نوجوانوں کے لیے ہنرمندی اور روزگار کے...

Now Is the Time to Think About Your Small-Business Success

Find people with high expectations and a low tolerance...

Program Will Lend $10M to Detroit Minority Businesses

Find people with high expectations and a low tolerance...

Kansas City Has a Massive Array of Big National Companies

Find people with high expectations and a low tolerance...

Olimpic Athlete Reads Donald Trump’s Mean Tweets on Kimmel

Find people with high expectations and a low tolerance...

The Definitive Guide To Marketing Your Business On Instagram

Find people with high expectations and a low tolerance...

How Mary Reagan Gave Glamour and Class to the Elites Society

Find people with high expectations and a low tolerance...
spot_img

Related Articles

Popular Categories

spot_imgspot_img