بلوچ لیڈر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے بعد پاکستان میں اختلاف رائے کی گنجائش پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ سزا ظاہر کرتی ہے کہ اب ’پرامن اختلافی آوازوں کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچی‘۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ایک ساتھی کارکن کو انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے حال ہی میں عمر قید کی سزا سنائی۔ یہ سزا 2024ء میں گوادر میں ایک احتجاج کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق مقدمے میں سنائی گئی۔ ماہ رنگ بلوچ کو مارچ 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
بلوچستان میں ماہ رنگ بلوچ زیر حراست، پولیس
ریاستی حکام کا موقف ہے کہ یہ دونوں کارکن ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے، جن سے عوامی نظم و ضبط اور سکیورٹی کو خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ تاہم بی وائی سی کی قیادت اور اس تحریک کے حامی مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے حامیوں کو تشدد اپنانے کی نہ تو ترغیب دی اور نہ ہی اس پر اکسایا۔
ماہ رنگ بلوچ کی سزا کیسے سوالات اٹھا رہی ہے؟
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف عدالتی فیصلے کے قانونی پہلوؤں سے ہٹ کر، اس پیش رفت نے ایک پرانی بحث کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ جب لوگ یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کے سیاسی تحفظات کا ازالہ نمائندہ سیاست، مکالمت یا عدالتوں کے ذریعے نہیں ہو سکتا، تو اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ پرامن آوازوں کو دبانا استحکام کو مضبوط بناتا ہے یا اس عمل سے دراصل شہریوں اور ریاستی اداروں کے درمیان عدم اعتماد کے فضا کے مزید گہرا ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے؟
انسانی حقوق کی کارکن اور نعروف سوشیالوجسٹ ندا کرمانی کا خیال ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی جانے والی سزا ملک کے نظام انصاف کی ساکھ کے بارے میں کئی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ان کے مطابق جب قانونی نظام کو پرامن اختلافی آوازوں کے خلاف استعمال ہوتا ہوا محسوس کیا جائے، تو ریاست کا کردار بھی سوالات کی زد میں آ جاتا ہے، اور ایسی روش عدالتوں اور انصاف کے دیگر ذرائع پر عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
پاکستان: گوادر میں ہجوم کے حملے میں ایک فوجی ہلاک
ندا کرمانی کا کہنا ہے کہ پرامن سیاسی تحریکوں کو دبانے کے نتائج صرف انفرادی کارکنوں تک ہی محدود نہیں رہتے۔ ان کے بقول، ”جمہوری اور قانونی راستوں کو بند کرنا لوگوں میں ریاست سے لاتعلقی کے احساس کو بڑھاتا ہے اور بالآخر کچھ لوگوں کو تشدد کی جانب دھکیلنے کا باعث بھی بنتا ہے، جو نہ تو ریاست کے مفاد میں ہوتا ہے اور نہ ہی معاشرے کےمفاد میں۔‘‘
جملہ قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟
کئی قانونی حلقوں کا خیال ہے کہ اس وقت ملک میں صرف افراد ہی نہیں بلکہ پورا نظام انصاف داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے عدالتی عمل کی شفافیت سے متعلق خدشات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمے میں فیصلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قانونی برادری بھی شفافیت سے متعلق سوالات اٹھا رہی ہے۔
بلوچستان میں بدامنی کا خاتمہ ’ایک ایس ایچ او کی مار‘ ہے؟
انسانی حقوق کی وکیل رابعہ باجوہ یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا اس مقدمے میں قانونی کارروائی شفافیت اور انصاف کے بنیادی معیارات پر پورا اتری ہے؟ ان کے مطابق سیاسی کارکنوں کو مناسب قانونی تحفظات سے محروم کرنا اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ اختلافی رائے سے جمہوری انداز میں نمٹنے کے بجائے اسے جبر کے ذریعے قابو کیا جا رہا ہے۔
رابعہ باجوہ کہتی ہیں، ”ماہ رنگ بلوچ کو اِن کیمرہ ٹرائل کے بعد سزا سنائی گئی اور یہ انہیں ان کے منصفانہ ٹرائل کے آئینی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ اس نوعیت کے کسی مقدمے میں اِن کیمرہ ٹرائل کو کوئی منصفانہ ٹرائل تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
گوادر میں بلوچ راجی مچی کے انعقاد کا فیصلہ ہے کیا اور کیوں؟
ریاست کے اس طرز عمل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات کمرہ عدالت سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جب شکایات اور تحفظات کا ازالہ سیاسی عمل اور مکالمت کے ذریعے نہیں کیا جاتا، تو شہریوں اور اداروں کے درمیان نہ صرف عدم اعتماد بڑھتا ہے بلکہ معاشرے میں بے چینی بھی پھیلنے لگتی ہے۔
انسانی حقوق کی وکیل باجوہ کا کہنا ہے کہ سیاسی اور انسانی حقوق کی تحریکوں کے تحفظات دور کرنے کے بجائے انہیں دبانا طویل مدت میں مفید کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی پالیسیاں سیاسی مکالمت کو فروغ دینے کے بجائے مکالمت کی فضا ختم کرنے کا باعث بنتی ہیں اور عوام کے ریاست کے ساتھ تعلقات کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”جب آپ تحفظات دور کرنے کے بجائے آوازوں کو دبا دیتے ہیں، تو اس عمل کے نتائج ہمیشہ الٹے نکلتے ہیں۔‘‘




