پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ہڑتال کی کال پر احتجاج اور تشدد کی اطلاعات ہیں۔ علاقائی محکمہ داخلہ نے اس تنظیم کے چار رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد دینے پر انعام کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی ایک تنظیم کی ہڑتال کی اپیل پر منگل کے روز کاروباری مراکز بند رہے جبکہ عوامی ٹرانسپورٹ بھی معطل رہنے اور بعض علاقوں سے احتجاج اور تشدد کی اطلاعات بھی ہیں۔ یہ ہڑتال جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے دی گئی کال کے بعد کی گئی، جس کے حامیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان اتوار کو راولاکوٹ میں ہونے والی جھڑپوں میں کم ازکم سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے کیا؟
2023 میں قائم ہونے والا یہ کمیٹی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کے لیے زیادہ سیاسی حقوق کا مطالبہ کرتی ہے اور مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کے خاتمے کی حامی ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ مہاجرین سیاسی عمل میں غیر متناسب اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہ تنظیم پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے باعث بھی شہرت رکھتی ہے۔
اس حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا، جب پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص قانون ساز اسمبلی کی 12 نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
‘رات گزر جائے، صبح گھر پہنچ جاؤں گا‘
سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان حالیہ تصادم کا آغاز اتوار کے روز راولا کوٹ سے ہوا اور اب تک کی کشیدگی میں وہی سب سے خونریز دن بھی رہا۔ حکام کے مطابق اس تصادم میں چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے۔ انہی ہلاک شدگان میں راولاکوٹ کے ایک نواحی گاؤں لنجگراں سے تعلق رکھنے والے بتیس سال نقاش خان بھی شامل ہیں۔
پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی نقاش علاقائی محکمہ تعلیم میں جونیئر کلرک کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ ان کے چچا الطاف خان نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بھتیجے اپنے گھر کے واحد کفیل تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے پارٹ ٹائم کام کے طور پر راولاکوٹ شہر میں ایک دوست کے ساتھ مل کر بھینسوں کا باڑہ کھول رکھا تھا۔
الطاف خان کے بقول، ”وہ اتوار کو چھٹی والے دن وہاں گئے، اس وقت حالات ٹھیک تھے، پھر اچانک حالات خراب ہونا شروع ہوئے اور وہ اس بھینسوں کے باڑے کے اندر ہی محصور ہو گئے۔‘‘ الطاف خان، جو ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہیں، نے مزید بتایا،”میں مسلسل اس (نقاش) سے فون پر رابطے میں تھا، میں نے پوچھا کہ گھر کب آؤ گے تو اس نے کہا رات گزر جائے، صبح گھر پہنچ جاؤں گا۔‘‘
الطاف خان کے مطابق ان کی اتوار کی شب گیارہ بجے آخری بار نقاش سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے اسے کہا کہ کسی طرح نکل کر وہ گھر پہنچ جائے۔ اس پر نقاش کا جواب تھا، ”یہاں سے نکلنا ممکن نہیں، لیکن محفوظ ہیں۔‘‘ الطاف خان کے بقول اس کے بعد وہ سونے کے لیے چلے گئے اور پھر نصف رات کو انہیں بیدار کر کے بتایا گیا کہ نقاش کی گولی لگنے سے موت ہو گئی ہے۔
المیے پر المیہ
الطاف خان کے لیے اتوار کا دن خاص طور پر اس لیے بھی تکلیف دہ رہا کہ اسی روز ان کے ایک اور بھتیجے اور پولیس میں ملازم سردار رضوان کو بھی راولاکوٹ شہر میں مظاہرین کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ہسپتال میں داخل ہونا پڑ گیا۔ اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے الطاف خان نے کہا، ”بس یہ معجزہ ہی ہوا کہ رضوان زندہ بچ گیا ورنہ حملہ آور تو اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے۔‘‘
الطاف خان کے مطابق رضوان وردی میں تھے اور شام کو چار بجے کے قریب راولاکوٹ شہر میں واقع اپنے رہائشی کمرے سے نکل کر کچہری کی جانب جا رہے تھے، جب مظاہرین نے انہیں گھیر لیا اور اس وقت تک زدوکوب کرتے رہے، جب تک وہ بے ہوش نہیں ہو گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب رضوان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو وہ غیر مسلح تھے۔
63 سالہ الطاف خان کا کہنا تھا، ”ہمارے خاندان کے لیے یہ دونوں واقعات ایسے حادثات ہیں، جو شاید ہم کبھی بھول نہ پائیں۔‘‘
اندھی گولی لگی لیکن’لاش باآسانی مل گئی‘
الطاف خان کے مطابق انہیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ نقاش کی موت کس کی گولی لگنے سے ہوئی۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا، ”کچھ نہیں پتہ چل سکا کیوں کہ جب گولی لگی تو نقاش بھینسوں کے باڑے کے اندر تھا اور باہر سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کراس فائرنگ ہو رہی تھی۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ گولی نقاش کے جبڑے میں لگی اور ان کی موت وہیں ہو گئی۔ متوفی کے چچا کے مطابق وہ اگلے دن پیر کے روز مقامی تھانے گئے، جہاں اس تصادم میں ہلاک ہونے والے دیگر تین افراد کے ہمراہ ان کے بھتیجے کی لاش بھی رکھی گئی تھی۔ ان کے بقول، ”ہم نے تھانے والوں کو تحریری طور پر بتایا کہ نقاش کا تعلق کسی سیاسی جماعت یا تحریک سے نہیں تھا اور یہ کہ وہ ایک سرکاری ملازم تھا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کی طرف سے پولیس کو یہ درخواست بھی دی گئی کہ وہ خود ہی نقاش کے قاتلوں کی نشاندہی کر کے انہیں گرفتار کر لے۔
الطاف خان کے بقول اس کے بعد انہیں اپنے بھتیجے کی لاش لے جانے دی گئی اور پھر ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں پیر کی شام ہی دفنا دیا گیا۔

اپنوں کی ناانصافی کا دکھ زیادہ
الطاف خان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ تھانے میں رکھی باقی تین لاشوں کے ساتھ کیا ہوا کیونکہ اپنے بھتیجے کی لاش لینے کے بعد وہ گھر واپس آگئے۔
الطاف خان کے مطابق ان کے بھائی اور نقاش کے والد زرداد خان بھی ایک اسکول ٹیچر تھے، جو تین سال قبل کینسر کے عارضے میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے کہا،”اب نقاش بھی نہیں رہا تو اس کی بہنوں اور والدہ کی دیکھ بحال کی ذمہ داری بھی مجھے ادا کرنا ہو گی۔‘‘
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف خان نے کہا کہ وہ اب راولاکوٹ شہر میں واقع کمبائنڈ ملڑی ہسپتال میں زیر علاج اپنے بھتیجے رضوان کی تیمارداری کے لیے جائیں گے،”اس کے بھی والد صاحب وفات پا چکے ہیں اور اس (رضوان) کی اپنی دو چھوٹی چھوٹی بیٹیاں اور ایک بیٹا ہیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ نقاش کو اندھی گولی لگی لیکن رضوان پر تشدد کرنے والے تو ہمارے اپنے لوگ تھے اور الطاف خان کے بقول، ”اپنوں کی کی گئی نا انصافی کا دکھ زیادہ ہوتا ہے۔‘‘

کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد پر انعام
اسی دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ نے آج بروز منگل ایک نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے چار مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک کروڑ روپے فی کس انعام مقرر کر دیا ہے۔
ڈی ڈبلیو کے پاس موجو علاقائی محکمہ داخلہ کے نوٹیفیکیشن کی نقل کے مطابق ان رہنماؤں میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان شامل ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی اور مصنف دانش ارشاد کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”بظاہر مقتدر حلقے اور ایکشن کمیٹی کے رہنما پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکے ہیں اور یہ صورتحال اس خطے کی حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے کسی کے بھی حق میں نہیں۔‘‘
دانش ارشاد کے مطابق دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں جانب سے کشیدگی میں کمی لانے کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید لاشیں گرنے سے روکی جا سکیں۔
مقتدر حلقوں کے حوالے سے ان کا اشارہ کس جانب ہے، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ” یہ وہی ہیں، جن کی جانب آزادکشمیر کے وزیر اعظم فیصل راٹھور بھی اشارہ کر کے اس معاملے میں اپنی بے بسی ظاہر کر چکے ہیں۔‘‘
دانش ارشاد کے مطابق کشمیر کے بیشر اضلاع میں اب بھی کرفیو کا سا سماں ہے۔ بازار اور کاروبار بند جبکہ انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں اور یہ معلوم نہیں کہ یہ سلسہ کب تک جاری رہے گا۔




